Free YouTube Transcribe

Video transcript

Sarf Mustawa 1 - Dars 1 - Shaikh Amanullaah Salafi Madani Hafizahullaah

Markaz Tuba For Islamic Studies · 4,735 words · 22 min read

Want to search this transcript, jump the video from any line, or download it as TXT, SRT, or VTT?

Open in the transcript tool

Full transcript

0:00یا پھر یہ ہے کہ

0:08اوکے

0:11بہرحال اپنے اپنے فرق کے ساتھ ہر مؤلف نے اپنے اپنے طور پر اس کتاب کو جمع کیا

0:21اس فن اس سبجیکٹ کا جو مقصد ہے یا اس سبجیکٹ کو

0:27جو وضح کیا گیا اس سبجیکٹ کو جو بنایا گیا اس مادے کو جو کی جو بنیاد رکھی گئی وہ سب

0:34سے پہلے معاذ بن مسلم الفرا البغوی انہوں نے صرف

0:41کی بنیاد رکھی صرف کے قاعدے کو انہوں نے چائے کہ میں اپ کو اس سے پہلے ان کے بارے

0:47میں بتاؤں کہ صرف کا جو معنی ہے وہ بدلنا قران کی ایک ایت بھی پڑھا میں کہ وہ تبدیل

0:54تصریف الریہ ہواؤں کا بدلنا رخ ادھر سے ادھر ہونا اللہ رب العالمین نے قران کریم

0:59نے کہا کہ وہ جو کشتی چلتی ہے سمندروں میں سمندر میں دریاؤں میں تو وہ جو ہواؤں کے

1:06رخ کے اوپر بعض اوقات اس کا فرق اس پر فرق پڑتا ہے یا پھر اس کی تبدیلیاں جو ہوتی

1:11ہیں اس کے تعلق سے باتیں ائی ہیں تو رب نے کہا کہ وہ ہواؤں کا بدلنا پھر کشتی کا اس

1:14رخ سے اس رخ ہونا یہ سب اللہ رب العالمین کی نشانیوں میں سے بہرحال بدلنا تبدیلی

1:20الٹ اور پھر الٹ پھر اس لیے ہے کہ زبان کا جو ایک خاصہ ہے اس یہ صرف کا جو ایک یہ

1:28مقصد ہے وہ یہ کہ ہلکے سے الٹ پھر ابواب اوزان کی تبدیلی اس کی وجہ سے معنی بدل

1:35جاتے ہیں اس کی وجہ سے اور بھی تبدیلیاں پیدا ہو جاتی ہیں بعض اوقات ایک لفظ ہے یہ

1:42صرف کی ایک اور بھی باریکی ہے ایک لفظ ہے ایک لفظ کا اگر باب بدل گیا

1:49باب کی تبدیلی کی وجہ سے معنی تبدیل ہو جاتا ہے باب کی تبدیلی ابواب کی تبدیلی یہ

1:54مستقل ایک درس ہے مستقل ایک محاضرہ ہے ہو سکتا ہے کہ اپ کو میں سمجھاؤں یا بتاؤں تو

2:00چند چیزیں جو ابھی بالکل اپ ابتداء میں ہیں تو وہ سمجھنا دشوار بھی ہو تو ایک

2:07ضابطہ بھی ہے کہ ابھی یہ چیزیں اپ کو ایسی نہ بتائی جائیں بس یہ ہے کہ درمیان میں جو

2:10کلمات ہیں اس کا دو فن ہیں عربی کی زبان کو سیکھنے کے لیے عربی کی لینگویج کو عربی

2:15زبان کو سیکھنے کے لیے دو قاعدے وضح کیے گئے ایک قاعدہ

2:21جو کتاب النہو یا نہ ایک فن رہا جو اصلی جو گرامر ہے جو سب سے پہلے عربی سیکھنے کے

2:27کے لیے عربی زبان کو سمجھنے کے لیے قواعد کے حساب سے قواعد کے اعتبار سے جو سب سے

2:33پہلے جس قاعدے کو وضح کیا گیا وہ نحو فن نحو نحو کا جو فن ہے وہ

2:40علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ انہوں نے ابوالودلی کو حکم دیا کہ اپ جو

2:48ہے یہ عربی قواعد کو سمجھنے کے لیے ایک قاعدہ گرامر کو وضح کریں بنائیں چنانچہ

2:55انہوں نے نوح کی بنیاد رکھی رکھی اس کے بعد لوگوں نے اس پر کام کیا پھر بہت سارے

3:00لوگ اس کے بڑے بڑے جتنا بڑا جو کام کیا اس کے اعتبار سے ان کو لقب ملا اور انہوں نے

3:04اپنی اپنی کتابیں لکھی جس میں سی بابا بھائی جو ایک بڑے امام نہ گزرے تو ان کا

3:09ایک کردار رہا ہے بڑا نہو

3:18میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ نہو اور دونوں کا تعلق ہے اور دونوں جو بنیادیں وہ اپ سے

3:22لیکن دونوں کے اعراب میں زیادہ فرق یہ ہے کہ نہ جو ہے وہ کلمات یا جو لفظ اس کے

3:27اخری حرف کا جو اعراب ہوتا ہے اعراب کے جو اخری جو کلمات اخری حرف کا جو جو اعراب

3:33ہوتا ہے اس سے اس کو بح یعنی کہ اس کی جو بحث ہے اس کا جو تعلق ہے اس کی ہر ایک چیز

3:39اس سے اخری حرف یہ اس سے پہلے بھی مثال ہے انشل

3:47جو اخری حرف کیا ہے اللہ رب العالمین اللہ کا جو نام ہے اس میں اخری حرف ہا ہے حرف

3:53لفظ کی بات نہیں کر رہا حرف کی بات کر رہا ہا ہے وہ وہ ہا ہو گیا تو ہا کا جو اعراب

3:58ہے یخش اللہ اس پر کیا ہے فتحہ ہے زبر ہے یہ مفعول ہوگا اس حساب سے اور اس کا معنی

4:06الگ ہوگا صرف اس ہا اور کمال یہ ہے کہ وہ جو اخری حرف کا جو اعراب ہے نا اس اخری

4:12حرف کے اعراب کی تبدیلی سے معنی ایسا تبدیل ہوگا ایسا بدل جائے گا کہ اگر کسی

4:18نے انجانے میں کیا تو اللہ اسے معاف کرے لیکن نعوذ باللہ الاعوذ باللہ اگر کسی نے

4:23اس کو جان بوجھ کر کے پڑھا تو ایسا ایسا شخص کافر ہو جائے گا۔ اب دیکھیے اس کا

4:29معنی ہے اس کا سیدھا سا ترجمہ ہے حالانکہ عقیدے کے باب میں خشیت اور خوف پر اپ اور

4:34بھی پڑھیں گے اور شیخ بتائیں گے بھی انشاءاللہ یہ ہے اس میں

4:41پھر اپ پر غور کیجیے گا ہمارے ساتھ میں کہ اللہ رب العالمین سے سب سے زیادہ خشیت

4:46کھانے والے خشیت رکھنے والے خوف رکھنے والے

4:50اللہ کے بندوں میں سے کون ہوتے ہیں؟ علماء ہوتے ہیں۔ اب یہاں ایک مفعول کہہ رہا وہ

4:55ایک فاعل کا اعراب ہے مفعول کا اعراب جو اللہ رب العالمین کے ہا پر جو جو حرف جو

5:02حرف ہے اس پر جو اعراب ہے زبر ہے فتحہ ہے تو اس کی وجہ سے اس کا معنی ہوگا اللہ سے

5:07ڈرنے والا لیکن نعوذ باللہ الا اعوذ باللہ اگر کوئی شخص ناواقف رہے اور

5:15انجانے میں کسی سے اگر ایسا ہو گیا یحش اللہ کی جگہ یفش اللہ پڑھا گیا تو معنی

5:21کیا ہوگا معلوم ہے اللہ حفاظت فرمایا اس کا معنی ہوگا کہ اللہ رب العالمین نے اپنے

5:25بندوں سے بندوں میں سے علماء سے ڈرنا اعوذ باللہ ایسا معنی ہو جائے گا تو یہ چھوٹی

5:31سی باڑی کی ایسی باڑی کی جو عربی زبان ہے جس میں اعراب اور کلمات کے اعراب بدلنے سے

5:37اور اخری حرف کے اعراب بدلنے سے بڑا فرق انے لگا تو ابو طالب یا یہ کہہ لیں کہ علی

5:42ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ نے ابو الاسود علی کو حکم دیا کہ دیکھو اس کے لیے

5:47قاعدہ وضاح کرو چنانچہ انہوں نے ایک نحو کی اس زمانے سے ہی جو ہے وہ لیکن باضابطہ

5:53وہ ترتیب ویسی نہیں بنی تھی بس ایک قاعدہ لکھنا شروع کیا وہاں سے کہانی شروع ہو گئی

5:57تھی اس کی اس کے بعد پھر کتابیں ائی بعد میں اور اچھی طریقے سے کتابیں لکھی گئیں

6:01پھر لوگ جیسے جیسے ماہر ہوتے گئے انہوں نے اس چیز کو یا اس فن کو اور بھی اسان کیا

6:05اور بھی سہل بنایا اور اس کے بعد پھر ساری چیزیں اسی اعتبار سے اسی طرز پر اسی نہج

6:11پر جو ہے وہ چیز چلتی رہی پھر اس کے بعد یہ نحو کا سلسلہ جاری رہا نوحو کے سلسلے

6:17کے بعد جب مستقل یہ سلسلہ جاری رہا تو میں نے اپ کو اس سے پہلے بھی بتایا کہ نہو میں

6:22جو ہے اخری حرف کا جو اعراب اس سے بحث ہے ٹھیک ہے بھائی اب اگر اخری حرف کے اعراب

6:28سے ہی بحث ہے اگر تو ایک طبقہ ایسا انہوں نے کہا کہ اگر اخری حرف کا اعراب ہے وہ تو

6:32چلو بھائی وہ اس کے لیے نحو ہے لیکن جو درمیان میں جو کلمات ہیں اس کے لیے پھر

6:36کیا ہو اس کا اعراب بھی اگر بدل جائے تو معنی بہت بدل جاتا ہے تو اس کے لیے پھر

6:41کیا ہو تو اس کے لیے معاذ بن مسلم الفرا البغوی نے ان کے ذہن میں یہ بات ائی پھر

6:48انہوں نے ایک کئی لوگوں سے مل کر کے کہا کہ ہم ایک بنیاد رکھتے ہیں تو انہوں نے

6:53نہو کے بعد جو قاعدہ ہے صرف کی بنیاد رکھی اور صرف جو قران کریم اور اس طرح سے جو

6:59احادیث میں جتنے جو الفاظ ہیں عربی کے اور اس کے بعد ادبہ اور شعرا نے جو الفاظ وضع

7:04فرمائے ہیں اس میں سے انہوں نے نکالا اور پھر جا کر کے انہوں نے معاذ بن مسلم نے

7:10صرف کی بنیاد رکھی اس کے بعد پھر باقاعدہ بنتا رہا تو اس کا جو تعلق ہے یہ عام طور

7:17پر درمیان کلام یا کلام میں وہ چیزیں ہیں یا کسی بھی کوئی حرف اگر ہے چند حروف کے

7:27ساتھ ایک ایسا حرف جو اخری سے اس کی بحث نہیں ہو اخری سے بحث چناہوں میں جو درمیان

7:32میں ہو جس کی وجہ سے معنی بدل جاتے ہیں معنی تبدیل ہو جاتے ہیں یہ ایک لفظ ہے قال

7:40ایک مثال دیں تاکہ اپ کی رغبت تھوڑی سی اور پڑھے اور بات سمجھ میں بھی ائے کہ صرف

7:44کا رول کیا ہے عربی زبان اور اس کو اس کے عربی زبان کو سمجھنے میں یہ بھی یہ اہم

7:50گرام ہے تو قال اس کا معنی ہوتا ہے کہنا لیکن میں جو اپ

7:57کو ایک چیز بتا رہا ہوں قال کا ایک معنی ہوتا ہے قیلولہ کرنا لیکن لفظ وہی ہے قف

8:04قف الف اور لام اتنا ہی لفظ ہے لیکن دونوں کا معنی الگ الگ ہے لیکن دونوں کا معنی

8:10الگ کیسے ہے کہ قال یقول قولا مصدر قول ہوگا اور وہ باب اوزان وہ ابھی جب اپ کو

8:17نہیں سمجھا سکتا ابھی سمجھائیں گے تو اپ مبتدی ہیں پریشان ہو جائیں گے وہ

8:20انشاءاللہ اگے جب پڑھیں گے اپ کو سمجھائیں گے قال یقولو کس باب سے ہے کس وزن پہ ہے

8:25انشاءاللہ اللہ رب العالمین نے ایسا موقع دیا اگے پڑھتے رہیں تو اس میں کیا تعلیل

8:29ہے کیا کیا چیزیں ہیں اس کو انشاءاللہ سمجھائیں گے ابھی بس اتنا سمجھا قال یقول

8:34قولا مصدر قول ہوگا قال یقول ہوگا اس کا معنی ہوگا قول یعنی کہنا سیدھی سی بات ہے

8:41اوکے اس کے بعد یہی قال ہی ہے لفظ ماضی میں ماضی مضارع بھی اب ایک دم شروعات میں

8:48ہے اگے سمجھیں گے ماضی مضارع الگ الگ تو وہ بات سمجھ سمجھ میں ائے گی قال یقیل

8:54قیلولۃ اس کا معنی ہوگا قیل کرنا اس کا مصدر قیلولہ ہوتا ہے اور باب کے وزن میں

9:00مضارع میں جو ہے قال اس کا جو وزن ہے یا پھر یہ ہے کہ اس کی جو کا جو مضارع ہے وہ

9:06تبدیل ہو جاتا ہے وہاں قال یقولو ہے تو وہ قول کہنا کے معنی میں ہوگا اور قال یقیلو

9:11تو اس کے مصدر جا کر قیلہ میں اور اس کا معنی ہوگا قیر کرنا لفظ ایک ہی ہے لیکن

9:15دیکھیے اس کو کسی صرف والے نے اس کو اس باریک بنی سے تو صرف کا مقصد

9:26اس کی بحث اس کی کس سے ہے؟ اخری حرف سے نہیں درمیانے کلام سے یا یہ کہ درمیان میں

9:30جو حرف ہے اس کی تبدیلی یا اس میں معنی یا یہ کہہ لیں کہ اس کے وزن کی تبدیلی سے

9:35معنی تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی صرف ہے تصریف الدیا تبدیلی وزن کے اس کا اختصر مقصد ہے

9:42کہ وزن کے الٹ پھیر سے وزن کی تبدیلی سے وزن کے بدلنے سے معنی میں تبدیلی اس پہ بس

9:49یہ باتیں ذہن میں رکھیں چونکہ پہلا معادرہ ہے صرف پر تو یہ باتیں ذہن میں رکھیں گے

9:54تو انشاءاللہ انے والے دروس میں اس کا بڑا فائدہ ہوگا تو یہ دوسرا ایک مثال

10:03ایک مثال اس کے تعلق سے جو ائی تھی وہ یہ کہ لبیثبل

10:11اب یہ عرض مستقل ایک باب ہے لبی سمی مستقل ایک باب ہے لام کے بعد جو لفظ با ہے

10:17وہ عین کلمہ فعل کے حساب سے وزن کر لیں گے وزن انشاءاللہ کبھی پڑھائیں گے تو سمجھ

10:22ائیں گے فعل کا جو وزن ہے فا عین اور لام تین ہیں اس کا عین کلمہ لبس میں جو عین

10:28کلمہ ہے وہ با ہے لام با اور سین تو لام اور اس طرح سے اس کو لکھ کر کے اگر سمجھیں

10:35گے تو اور بھی اسانی ہوتی شاید میں سمجھا پاتا اور اسانی سے تو لکھنے میں لبیث اور

10:40فاعل اس دونوں تینوں کلمات کے لفظ کو ملائیں گے فا عی اور لام اور لبیث میں لام

10:48با اور سین تو فا اگر ہے تو فا کی جگہ پر کون اگیا لام اور عین اگر ہے تو اس کی جگہ

10:55پر کون ا گیا با اگیا اور لام کی جگہ پر فاعل میں جو لام کی جگہ پر کیا سین اتا ہے

11:00ٹھیک ہے ایسے فعل مفعل کا مستقل ایک وزن ہے یہ چیز سمجھانے کی کوشش میں اس لیے کر

11:06رہا ہوں کہ اپ دیکھیں لبیث یلبس لباسا مصدر لباس ہوگا لبیث عین کلمہ جو ہے لبیث

11:15اس کا اگر ہوگا یہ صرف سمجھ سمجھنے کی ابھی کوشش کریں ابھی یہ درس کا کوئی ماخذ

11:19نہیں ہے یہ اپ کو ایک مثال کے طور پہ سمجھا رہے ہیں اس لیے کوئی اس کو ایک دم

11:23اسانی سے سمجھے دشواری نہیں ہے یہ اپ مستقل اگے پڑھیں گے یہ میں مثال کے طور پہ

11:27سمجھا رہا ہوں یہ ہمارا درس بھی نہیں ہے بس اتنا سمجھیں کہ یہ ایک لفظ کی تبدیلی

11:30الٹ پھر سے لفظ وہی ہے اعراب کی بیچ میں جو تبدیلی ہے درمیان میں اس سے معنی کیسے

11:35بدل رہا ہے یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں صرف اتنا سمجھیں اس کو ایک سمپل بنا کے

11:39سمجھیں مشکل بنا کے نہیں دیکھیے لبیب با کے نیچے زیر اتا ہے کسرہ اتا ہے لبیسیب

11:47اور مضارع میں با با پر زبرات یا لبث لباسا اس کا معنی ہوتا ہے پہننا کوئی چیز

11:53کوئی کپڑا پہننا لباس لباس بھی اسی سے ہے اوکے لیکن اسی کے ساتھ ایک لفظ دیکھیں

11:59دیکھیں یہ لفظ یہی ہے حروف بھی اتنے ہی ہے لیکن دیکھیں وزن کی تبدیلی سے اوزان کی

12:05تبدیلی سے فا اور عین کلمہ کی جو بحث ہے جو اس سے پہلے بولے کہ یہ دونوں کی تبدیلی

12:10سے معنی کیسے بدلتا ہے اصل عین کلمہ ہے درمیان میں جو ہے وہ عین کلمہ بہت اہم

12:14ہوتا ہے اب دیکھیں یہاں جو ارہا ہے مضارع میں لبث یلبسو اس سے پہلے کیا پڑھا لبیس

12:19البسو با کے نیچے زیر یہاں لیکن یہاں کیا ہو رہا ہے یہاں ماضی میں لبث تینوں میں

12:24ایک اعراب ہے ماضی میں جو ہے با پر ایک دم زبر ہے لبث اور مضارع میں اتا ہے زیر با

12:32کے نیچے ی البسو اس کا معنی ہوتا ہے اس کا مصدر ہوتا ہے التباس

12:36اس کا معنی کیا ہوتا ہے مختلت ہونا ملاوٹ ہونا ملاوٹ یا مل جانا ایک مثال تاکہ اس

12:43کے یہ بات ذہن میں رہے اور اپ کو یاد رہے الذین امنو قران کریم کی ایک ایت ہے اعوذ

12:50باللہ من الشیطان الرجیم الذین امن ولم ایمان

12:55کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو

13:01اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہیں ملایا جب یہ ایت نازل ہوئی تو صحابہ کرام پریشان

13:06ہوئے کہ ہم میں کا کون ہے جو اپنے اوپر ظلم نہ کرتا ہو چنانچہ

13:11نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ یہ اس سے مراد یہ نہیں ہے تمہارے وہ بھائی کا

13:15وہ قول یاد نہیں یعنی لقمان علیہلام کی وہ نصیحت سورہ لقمان میں بھی ہے سورہ لقمان

13:20میں وہ ایت بھی ہے ان شرک جو بڑا ظلم ہے شرک دراصل بڑا ظلم ہے انشرک اس سے مراد جو

13:26ہے ظلم سے مراد شرک ہے تو یہاں ایک معنی سمجھانا ہے مجھے تو وہ ایک عقیدے کے بحث

13:31میں کبھی پڑھیں گے اس کو انشاءاللہ تو معنی یہ سمجھانا ہے کہ یلس

13:38کیا معنی ہو رہا ہے صرف عین کلمہ میں ایک لفظ ہے با کے جو کے جو اوپر جو اعراب ہے

13:46وہ ماضی میں اگر لبیث یلبسو ہے تو اس کا معنی ہے پہننا اور اگر ماضی میں اس طرح سے

13:51لبس یلبسو ہے تو اس کا معنی ہے ملانا بس اس کو اسی حد تک سمجھیں کبھی انشاءاللہ جب

13:56اس کو اور اچھی طرح سمجھنا ہو تو اس کو اچھی طرح سے ہم بورڈ پر سمجھائیں گے لیکن

14:01فی الحال میں اپ کو یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ لفظ

14:07حروف اور حرف یہ حروف تینوں کے تینوں ایک ہی ہیں لیکن اللہ اکبر ذرا سی تبدیلی سے

14:15کسی درمیان کے کلام میں ایسی چیزوں سے تو یہ جو فن ہے اس کی باریکی کو کس نے کس نے

14:20دیکھا ایسی باریک بینی کس کی رہی صرف والوں کی ایسی باریک بنی سے جو عربی کے

14:26قواعد کو یا عربی کو زبان کو سمجھا کس نے یہ صرف والوں نے اب دیکھیں کہ ایسی تبدیلی

14:31سے معنی کس طرح بدل جاتا ہے تو اس کو اس پر جو کام کیا ہے وہ اہل صرف نے یا صرف کو

14:36بنانے والے نے انہوں نے کام کیا ہے تو یہ صرف کا یہ رول ہے اور بھی اس کی اور بھی

14:40تمثیلات ہیں اور بھی مثالیں ہیں جو اپ کو سمجھنے میں اگے ائیں گے اگے سمجھیں گے

14:44پڑھیں گے تو اور بھی باتیں سمجھ سمجھ میں ائی دیکھیے اپ ہمارے ساتھ جڑے رہیں گے تو

14:51باتیں سمجھیں گے انشاءاللہ کہ یہ جو صرف ہے اور صرف کا جو رول ہے تو ایک نحو ہے تو

15:00ظاہر سی بات ہے جب نحو ہے تو اس میں کچھ گرامر ہے کچھ قاعدے ہیں جس کو پڑھنے والوں

15:07کو یاد کرنا ہے پہلے لیکن یاد کیسے کرنا ہے یاد سمجھ کے کرنا ہے سمجھنا ہی ہوگا

15:15سمجھے سمجھے بغیر یاد کرنے کا کوئی اور اگر شاید اپ سمجھ لیں تو یاد کرنے کی اتنی

15:19کوئی ضرورت ہے بھی نہیں چونکہ چند چیزیں ہیں اس میں تو سمجھ لیں گے وہ کیسے سمجھیں

15:23گے ظاہر سی بات ہے سمجھنے کے لیے ایک تو یہ ہے کہ وہ قاعدے کو یاد رکھیں یاد کریں

15:27یا یاد رکھیں دو معنی الگ الگ ہیں ایک پورا رٹ جائیں اور ایک اس کو یاد رکھیں

15:32ایک تو یہ دوسری چیز یہ کہ یاد رکھنے کے ساتھ جو نہو کے قاعدے ہیں اس کو سمجھنے کے

15:37لیے جو ایکسرسائز وغیرہ ہیں جو مشک ہے جو تمرین ہیں جو اگے ائیں گی اس کا اہتمام

15:42کرنا ہے ورنہ اس کے بغیر سمجھنا بہت سے لوگ بہت اس سے قاعدہ جانتے ہیں ایک مثال

15:46دے دیں گے اگر کوئی شخص ہے تو اس کو یہ بتا دیا گیا کہ بھائی

15:52یہ دریا ہے اور اس میں اس طرح اس طرح سے تیرنا ہے اس طرح ہاتھ بانجھنا ہے اس طرح

15:57پیر بانجھنا ہے اس طرح سانسیں چھوڑنی ہیں وغیرہ وغیرہ وہ شخص اس کی ہدایات کے مطابق

16:03کیا کرتا ہے کہ روزانہ دریا کے پاس سے گزرتا ہے صبح اور شام دریا کے پاس اتا ہے

16:08روز اتا ہے دو وقت اور جیسے کسی استاد نے اس کو بتایا

16:14ہے کہ دریا میں جا کر کے دریا میں کود کر کے اس طرح اس طرح ہاتھ بانجھنا ہے اس طرح

16:18پیر بھانجنا ہے اور اس طرح سانسیں لینی ہے وہ ٹھیک اس کو ویسے ہی دہراتا ہے وہاں پر

16:22بیٹھ کے وہ دریا میں نہیں کودتا ہے مجھے لگتا ہے کہ وہ جب تک اس کی زندگی رہے موت

16:28تک وہ اس کو تیرنا نہیں ائے گا کیوں کیوں نہیں ائے گا اس لیے کہ اس نے اس کے مطابق

16:33وہ دریا میں کود کر کے جو اس کی ہدایت کا مقصد تھا کہ دریا میں کود کر کے ویسے

16:37بھانجنا ہے اس نے اس پہ عمل نہیں کیا اس نے صرف یاد کیا اس کو کہ ایسے ہاتھ

16:40بانجھنا ایسے پیر باندھنا ایسے سانس چھوڑنا تو جب تک دریا میں کودیں گے وہ

16:45سیکھنا ممکن ہی نہیں ہے محال ہے بہت یہ ایسی کوئی باتیں ہیں کہ مطلب کوئی دریا

16:49میں کودے نہیں تو یہ گرامر کا بھی ایسا ہی ہے وہ نہو ہے جو ہم پڑھائیں گے سمجھیں گے

16:54تو سمجھ بھی لیں اگر یاد بھی کر لیں تو اگر مشق نہیں کریں گے ایکسرسائز نہیں کریں

17:00گے تو وہ گرامر سارے ایسے ہی ہوں گے جو یا تو ذہن سے نکل جائیں گے یا پھر یہ ہے کہ

17:04اپ سمجھ کر کے بھی ناسمجھ رہے ہیں لیکن جب بنانا شروع کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ

17:09قاعدہ اپ کو معلوم ہے پھر بھی اپ غلطی کریں گے لیکن وہ غلطی جو ہوگی وہ بھی اپ

17:13کی اپنی غلط غلطی ہوگی وہ اپنی غلطی کا مطلب وہ غلطی جو اپ کو بڑا درس دے سکتی ہے

17:18وہ غلطی اپ کو بہت کچھ بڑا سکھا دے گی تو وہ غلطی کہ اس میں کوئی بچہ اگر ہے وہ

17:22سیکھ کر کے کچھ لایا ہے کچھ مشک کر کے اپنے طور پر محنت کر کے بنایا تو اپ نے 10

17:27پرسنٹ سمجھا پانچ پرسنٹ سمجھا وہ اپ کی اپنی سمجھ ہے اور اپ کو اسی سمجھ کا فائدہ

17:32ہوگا چاہے وہ پانچ ہی پرسنٹ کیوں نہ سمجھا ہو سکتا ہے کہ انے والے وقت میں اپ 20

17:36پرسنٹ اس کے بعد پھر یہ ہے کہ 40 50 60 70 تک جتنا پرسنٹ اپ سمجھ سکتے ہیں اتنا

17:41سمجھیں گے اور میں 100 پرسنٹ کی بات ابھی نہیں کروں گا چونکہ 100 پرسنٹ سمجھنے کے

17:46لیے یا 100 پرسنٹ سمجھنا یا سمجھانا یہ درس کا مقصود بھی نہیں ہوتا کیونکہ 20

17:51پرسنٹ بچے اپنی طور پر یا اپنی طرف سے طرف سے جو سمجھیں گے نا تو وہ اچھا سمجھیں گے

17:55ہو سکتا ہے کہ بعض اوقات وہ استاد سے بہتر بھی سمجھ سکتے ہیں ایسا بھی ہو سکتا ہے

17:59لیکن فی الحال جو سمجھنے والے جو سمجھیں گے وہ شروعات جو ہوگی پانچ پرسنٹ سے ہو

18:05سکتا ہے کہ اگلے دن تھوڑا مشق کریں تو 10 پرسنٹ سمجھیں پھر اور مشق کریں گے تو وہ

18:10دھیرے دھیرے 50 سے اوپر سمجھیں گے یہ سمجھیں گے کب جب اس کو ایکسرسائز کریں گے

18:15مشک کریں گے تو لیکن یہ چیز نہ میں ہے اس کی زیادہ ضرورت ہے کہ نہ میں ادمی سمجھ کر

18:21کے اس کو ایکسرسائز اس کے مطابق بحث کے مطابق ساری چیزوں پر عمل کر کے یہ کرے تو

18:26ایسا ہوگا وغیرہ وغیرہ بہرحال

18:31صرف کے ساتھ کیا ہے میں نے نمو کے بارے میں کہا کہ اس میں بادشاہ کا دماغ چاہیے

18:36سمجھنے والا سمجھنے والا دماغ بہت اہم ہے لیکن صرف میں ایسا نہیں ہے جو ہم پڑھ رہے

18:41ہیں جو فن ہے اس کی اکثر چیزیں رٹنے کی ہے یا حفظ کرنے اس کا تعلق ہے حفظ سے یا

18:48قاعدے ہیں کچھ جو اپ کو اگر ہم بتا دیں گے اس میں کچھ گردان ہیں تو بہت ساری زبانیں

18:54ہیں ہر زبان کا اپنا اپنا الگ الگ یہ ہے انگریزی زبان جاننے والے اس میں تقریبا

19:01ورب کی جو شکل ہوتی ہے وہ پانچ ہوتی ہے فارسی میں چھ سے زیادہ نہیں ہوتے

19:07اور عربی زبان ہے اس میں صیغے کم سے کم صرف صغ صیغے جو ہیں ماضی کے مضارع کے جو

19:14بھی صرف صیغے کی بات ہو رہی ہے 14 صیغے ہیں دنیا کی اور کسی زبان میں عربی زبان

19:20کے علاوہ 14 صیغہ نہیں ہے کوئی بھی زبان نہیں سوائے عربی زبان کے یہ زبان کتنی بڑی

19:26ہے اپ سوچ سکتے ہیں لیکن یہ 14 صیغے ہیں اس میں استاد اپ کی اسی حد تک مدد کر سکتے

19:32ہیں کہ اپ کو یہ بولیں گے کہ بھائی اس کو یاد کر لو باقی اس کا اور طریقہ ہوگا

19:37استاد کا اپنا اپنا طریقہ اپنا اپنا ضابطہ ہے پڑھانے کا تو وہ اپ کو ایک چیلنج دے

19:41دیں گے کہ ہم کو ایکس میں سنا ہو ایک سانس میں تین بار سنا ہو دو بار سنا ہو وغیرہ

19:44وغیرہ تو وہ چیلنج یہ ایک سوٹ چیلنج ہوگا لیکن اس کا بڑا فائدہ ہو سکتا ہے اس کے اس

19:50کی وجہ سے ایک اپ ایک اس کی یہ مقابلہ کریں تو اس مقابلے کا ایک فائدہ کم سے کم

19:57یہ ہوگا کہ سب کو تقریبا تقریبا یاد ہوگا اور اپس میں ایک دوسرے کو چیلنج کریں کہ

20:01بھائی ہم ایک سانس میں تین بار پڑھ سکتے ہیں تین بار سنا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ

20:04گردان جو ہوتا ہے اب گردان میں میں ایک اس کو مثال لوں کہ فعال سے لے کر کے فعالنا

20:08تک یہ 14 صیغے ہوتے ہیں فعل فاعل فعل فاعل فالت فالت فالتم فالت فالت فالتم فالت

20:16فالت فالت یہاں تک یہ صرف یہ ماضی کا ہے مضارع کے پھر الگ اس میں 14 صیغے ہوتے ہیں

20:21اس کو صرف اپ کو رٹ جانا ہے اپ جب رٹیں گے اس کو صرف اس کے بعد پھر اپ کو معنی جو ہے

20:26وہ رد کرائے جائیں گے تو سب کا اپنا اپنا مرحلہ ایک دن میں صرف گردان ہی رٹنی ہے

20:30معنی نہیں رٹنی تو یہ اس کا اس کا تعلق پورا رٹنے سے البتہ نہ میں یہ چیز نہیں ہے

20:36نوح میں یہ ہے کہ رٹے تھوڑے بہت باقی اپ کو اگر کوئی چیز سمجھا دی گئی تو وہ سمجھ

20:40لینا اصل ہے لیکن یہاں اس طرف میں استاد کو کیا نگرانی کرنی پڑتی ہے اور اس میں

20:44بعض ضابطہ سننے پڑتے ہیں چونکہ یہ بہت اہم باب ہیں اور یہاں کی غلطی اگر ہوگی تو میں

20:48نے اس سے پہلے بتایا اپ کو کہ یہاں اگر غلطی ہوگی تو معنی کیسے بدلتے ہیں نہو کی

20:52غلطی سے معنی کیسے بدلتے ہیں اس کی غلطی سے یہ معنی کیسے بدلتے ہیں تو معنی تبدیل

20:57ہو جاتے ہیں اپنی باریک زبانیں اس کا اعراب سے بڑا گہرا تعلق ہے وہ علم التصریف

21:03یا علم الصرف جو ہم پڑھیں گے جو ہم جو ہم کو پڑھایا جائے گا جو ہمارا مادہ ہوگا جو

21:09ہمارا سبجیکٹ ہوگا اس کا جو تعلق لق ہے وہ درمیان میں جو کلمات ہیں درمیان میں جو

21:16حرف ہے اس کے اعراب سے اوزان سے ہے ابواب سے یہ سب تعلق ہے یہ اوزان ابواب یہ بس

21:23ایک سمجھانے کے لیے ہے حالانکہ اس کے لیے مستقل باب ہے اگے انے والے بحثوں میں اس

21:28کے تعلق سے یہ مستقل ایک چیپٹر ہے اوزان اور اسی طریقے سے اب ہو اپ تو اس کے تعلق

21:33سے بھی زیادہ اتنا فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ بات ہم کو سمجھ میں نہیں ائی تو

21:37پریشان ہے اس کو ابھی پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں یہ بس ایک تمہیدی طور پر ایک

21:42محاضرہ ہے جو کہ ایک زبان یا اس کی پیش لفظ جو مخلف جو کتاب لکھتے ہیں تو اس کا

21:48ایک تعارف کراتے ہیں تو یہ ان چیزوں میں سے یا ایسی چیزیں ہیں اپ چیپٹر کے طور پر

21:53یا جو بھی ایک باب ہوتا ہے لیسن جو ہوتا ہے وہ ابھی باضابطہ طور پر شروع نہیں ہوا

21:59جب لیسن کے طور پر ہم پڑھائیں گے تو وہ بالکل سحل وہ اس کا ایک الگ پیٹرن ہوگا

22:03بڑے اسان انداز سے انشاءاللہ تاکہ وہ چیزیں اپ کو سمجھ میں ائے اور اس میں اتنا

22:08زیادہ نہیں ہوگا یہ تو ایک اپ کو عربی زبان سے رغبت دلانے کے لیے دلچسپی دلانے

22:12کے لیے اتنا کچھ میں نے بتایا اور سمجھایا تاکہ اپ زبان ادب کی طرف اچھی طرح سے اپ

22:18پڑھیں اپ اچھی طرح سے اس کو سمجھیں تو اس زبان کو سیکھنے کی طرف جیسے اپ کی رغبت

22:23ہوگی چونکہ یہ زبان جو ہے اللہ رب العالمین نے اس زبان کو پسند کیا ہے اپ کی

22:29شریعت کے لیے اور جس میں اپنے کلام کو نازل کیا جس نبی پر نازل کیا وہ نبی رسول

22:37رسول عربی رہے اور جس امت پر جس قوم پر نازل کیا وہ عربی قوم تھی تو اس اعتبار سے

22:42اللہ رب العالمین نے اس زبان کو ہماری شریعت کے لیے پسند کیا تو یہ ہمارے لیے

22:46کتنی اہم زبان ہو سکتی ہے یہ شریعت کی زبان ہے اور شریعت کی زبان کو اگر ہم

22:50سیکھنے کے لیے کسی بھی طرح کی کوئی کوشش کریں گے تو اللہ رب العالمین اس کا ہمیں

22:54اجر ضرور دے گا انشاءاللہ اے ممکن ہے کہ اللہ رب العالمین ہمارے گناہوں کو معاف کر

22:59دے اس کی وجہ سے اے ممکن ہے کہ اللہ رب العالمین ہمیں اس کا اجر دے اخرت میں

23:02ہمارے درجات کو بلند کرے تو یہ زبان ہے چونکہ ہمارا مقصد ہے ہم اللہ سے یا اللہ

23:07رب العالمین کے قوانین سے اللہ رب العالمین کے پیغام سے ہم واقف ہو سکیں یہی

23:12ہمارا مقصد ہے اس زبان کو اس اصول کو سیکھنے کا تو انشاءاللہ باذن اللہ اگر یہ

23:17سوچ کر کے ہم رہیں گے تو اللہ رب العالمین ہماری مدد کرے گا اور دین اور ہماری شریعت

23:21کی زبان ہے تو یہ ہمارے لیے بہت اہم اس کو سیکھنا ہو سکتا ہے انشاءاللہ اس کو سیکھیں

23:26گے اور اس کو سیکھنے کے لیے استاد تو اپ کے ساتھ ہیں انشاءاللہ جہاں تک جیسے تعاون

23:31کی ضرورت پڑے گی مکمل اپ کے ساتھ رہوں گا انشاءاللہ اور اس کے بعد یہ جو اپ سب

23:36سیکھیں گے چند ہدایات چند ارشادات چند چیزیں جو اپ کو انسٹرکشن کے طور پر ہم

23:40بتائیں گے پھر اس کے مطابق سیکھیں گے انشاءاللہ فجزاکم اللہ خیر والصلاۃ

23:46والسلام علی النبی الای محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم السلام علیکم ورحمۃ

23:53اللہ وبرکاتہ

This transcript was generated from the captions YouTube publishes for this video. Get the transcript of any YouTube video atfreeyoutubetranscribe.com: free, unlimited, no sign-up.